ضبط کر اے دلِ مجروح کہ اس دنیا میں کون سا دل ہدفِ گردشِ ایام نہیں غمِ محبوب و غمِ دہر و غمِ جاں کی قسم ایسے غم بھی ہیں یہاں جن کا کوئی نام نہیں
کس نے کھیل کھیلا ہے کس نے ہجر جھیلا ہے اب گزر گیا جاناں اس سوال کا موسم کس طرح سے ممکن تھا ایک شاخ پہ کھلتے میں کہ ہجر کا لمحہ ، تو وصال کا موسم دل کے اب تو صحرا ہے اور ایسےصحرا میں جانے کب تلک ٹھہرے اب ملال کا موسم آج تک بھی ٹھہرا ہے دل کی رہگزاروں پر تیرے لمس کا ،تیرے خدوخال کا موسم