Skip to main content

Posts

Showing posts with the label مصطفٰی ‏زیدی

نظم

صِرف دو چار برس قبل یُونہیں برسرِ راہ مِل گیا ہوتا اگر کوئی اشارا ہم کو کِسی خاموش تکلّم کا سہارا ہم کو یہی دُزدیدہ تبسّم ، یہی چہرے کی پُکار یہی وعدہ ، یہی ایما ، یہی مُبہم اِقرار ہم اِسے عرش کی سرحَد سے مِلانے چلتے پُھول کہتے کبھی سِنگیت بنانے چلتے خانقاہوں کی طرف دِیپ جلانے چلتے صِرف دو چار برس قبل ! مگر اب یہ ہے کہ تِری نرم نِگاہی کا اِشارا پا کر کبھی بِستر کبھی کمرے کا خیال آتا ہے زِندگی جِسم کی خواہش کے سوا کُچھ بھی نہیں خُون میں خُون کی گردش کے سوا کچُھ بھی نہیں مصطفیٰ زیدی

نظم ‏

یاد رات اوڑھے ہوئے آئی ہے فقیروں کا لباس چاند کشکولِ گدائی کی طرح نادم ہے دل میں دہکے ہوئے ناسور لئے بیٹھا ہوں یہی معصوم تصور جو ترا مجرم ہے کون یہ وقت کے گھونگٹ سے بلاتا ہے مجھے کس کے مخمور اشارے ہیں گھٹاؤں کے قریب کون آیا ہے چڑھانے کو تمنّاؤں کے پھول ان سلگتے ہوئے لمحوں کی چتاؤں کے قریب وہ تو طوفان تھی، سیلاب نے پالا تھا اسے اس کی مدہوش اُمنگوں کا فسوں کیا کہیے تھر تھراتے ہوئے سیماب کی تفسیر بھی کیا رقص کرتے ہوئے شعلے کا جنوں کیا کہیے رقص اب ختم ہوا موت کی وادی میں مگر کسی پائل کی صدا روح میں پایندہ ہے چھپ گیا اپنے نہاں خانے میں سورج لیکن دل میں سورج کی اک آوارہ کرن زندہ ہے کون جانے کہ یہ آوارہ کرن بھی چھپ جائے کون جانے کہ اِدھر دھند کا بادل نہ چھٹے کس کو معلوم کہ پائل کی صدا بھی کھو جائے کس کو معلوم کہ یہ رات بھی کاٹے نہ کٹے زندگی نیند میں ڈوبے ہوئے مندر کی طرح عہدِ رفتہ کے ہر اک بت کو لئے سوتی ہے گھنٹیاں اب بھی مگر بجتی ہیں سینے کے قریب اب بھی پچھلے کو، کئی بار سحر ہوتی ہے مصطفیٰ زیدی