Skip to main content

Posts

مستنصر حسین تارڑ

آل پاکستان گدھا کانفرنس" (مستنصر حسین تارڑ) ایک زمانے میں میں بہت بدنام تھا کہ یہ شخص انسانوں کے بارے میں کم کالم لکھتا ہے اور جانوروں کے بارے میں زیادہ لکھتا ہے۔ اسے انسانوں کی نسبت الو،گدھے، دریائی گھوڑے، مگر مچھ اور اودبلاؤ وغیرہ زیادہ پیارے ہیں۔ اس الزام سے بچنے کے لیے میں نے مسلسل انسانوںکے بارے میں کالم لکھے لیکن یہ بے نوازی نہ میرے کام آئی اور نہ ہی انسانوں کے کام آئی۔ انسان جیسے تھے ویسے ہی رہے بلکہ پہلے سے بھی بدتر ہوگئے لوگوں کی لاشیں کھمبوں پر لٹکانے لگے۔ انہیں ذبح کرنے لگے یا پھر اقلیتوں کی بستیوں پرحملے کرکے انہیں زندہ جلانے لگے تو اس صورت میں کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ میں پھر سے انسانوں کو ترک کرکے جانوروں کے قریب آجاؤں کہ وہ اس نوعیت کی ’’تہذیب یافتہ ‘‘ حرکات نہیں کرتے‬.

عمران خان - شادی

ڈان بریکنگ نیوز . ابھی ابھی خبر آئی ہے کہ کپتان سے بولنگ نہیں ہو رہی. کپتان چھوٹے رن اپ سے بال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پچ ان کے اندازے سے کہیں زیادہ بڑی نکلی ہے. کپتان ایک اوور میں صرف ایک بال سے کھیلنا چاہ رہے ہیں لیکن امپائر نہیں مان رہا ہے. جو بال ہو بھی رہی ہے وہ ان سوئنگ سے ذیادہ آوٹ سوئنگ ہو جاتی ہے. . امپائر نے پوچھا کہ نئی بال کہاں ہے تو کپتان نے سر جھکا کر کہا کہ وہ تو لندن میں خرچ ہو گئی. اب جس بال سے کپتان خان کرکٹ کھیلنا چاہ رہے ہیں اس کے بارے میں امپائر کا خیال ہے کہ اس کی شیپ آوٹ ہے. امپائر نے کپتان کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا. "میں اپنی انگلی کھڑی کروں؟"   . اس بات پر کپتان ناراض ہو گئے ہیں اور بولے "یہاں بھی دھاندلی ہو گئی ہے۔ میں تو پھر میں ڈی چوک پر دھرنا دینے جا رہا ہوں."

غزل

وسعت۔چشم کو اندوہ۔بصارت لکھا میں نے وصل کو اک ہجر کی حالت لکھا میں نے لکھا کہ صفحہ۔دل کبھی خالی نہ ہوئی اور کبھی خالی ہوئی بھی تو ملامت لکھا صرف آواز کہاں تک مجھے جاری رکھتی ...

دھند

یکم جنوری ہر طرف دھند ہے دھند ہی دھند ہے ایسے لگتا ہے جیسے زمین آسماں دھند کے اس اجل خیز سیلاب میں خر و خس کی طرح بہتے بہتے کہیں دور کھو جائیں گے وہ منظر جو گنتی میں آتے نہ تھے ایک ہو جائیں گے بے یقینی کے رنگوں میں الجھی ہوئی چاندنی درد کی جگمگاتی نہیں دھند کی جھیل پر تیرتی ہے مگر راہ پاتی نہیں وہ نذر جو ستاروں کی ہمراز تھی دس قدم دور تک ساتھ جاتی نہیں روشنی بھی کہیں کچھ دکھاتی نہیں آنکھ کہتی ہے باہر بہت دھند ہے دل کہتا ہے اندر بھی کم تو نہیں۔۔۔۔۔

بنام حسین

ﮐﭽﻪ ﺍﻫﻞ ﺳﺘﻢ ﮐﭽﻪ ﺍﻫﻞ ﺣﺸﻢ ﻣﻬﻪ ﺧﺎﻧﻪ ﮔﺮﺍﻧﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﻬﮯ ﺩﻫﻠﯿﺰ ﮐﻮ ﭼﻮﻡ ﮐﻪ ﭼﻬﻮﮌ ﮔﺌﮯ ﮐﻪ ﯾﻪ ﭘﺘﻬﺮ ﺑﻬﺎﺭﯼ ﻫﮯ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺪﻥ ﮔﻠﺰﺍﺭ ﺳﻬﯽ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﮑﺴﺘﻪ ﺗﯿﺮ ﮔﻨﻮ ﺧﻮﺩ ﺗﺮﮐﺶ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻪ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﯾﻪ ﺑﺎﺯﯼ ﮐﺲ ﻧﮯ ﻫﺎﺭﯼ ﻫﮯ

شعر

ﻛﺲ ﻗﺪﺭ ﻣﺸﻜﻞ ﮨﮯ ﻳﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻛﺎ ﺳﻔﺮ __ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ ﻣﺮﻧﺎ ﺣﺮﺍﻡ ﻛﻴﺎ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻴﻨﺎ....