Skip to main content

Posts

قطعہ

میرے عزیز کبھی خوش نہیں ہوئے مجھ سے تمہیں بھی میری محبت سے مسئلہ رہے گا وہ میرے پیار کو ٹھکرا کے کہہ رہا ہے مجھے تم اچھے بندے ہو سو تم سے رابطہ رہے گا

قطعہ

جو اک خلا ہے محبت میں وصل و ہجر کے بیچ سبھی کو خوف اسی درمیاں سے آتا ہے ہے ذات ایسی مقفل کہ دم نہیں آتا ترا خیال نہ جانے کہاں سے آتا ہے

جامن کا پیڑ

رات کو بڑے زور کا جھکڑ چلا۔ سیکریٹریٹ کے لان میں جامن کا ایک درخت گرپڑا۔ صبح جب مالی نے دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی دبا پڑا ہے۔مالی دوڑا دوڑا چپراسی کے پاس گیا،چپراسی دوڑا دوڑا کلرک کے پاس گیا، کلرک دوڑا دوڑا سپرنٹنڈنٹ کے پاس گیا،سپرنٹنڈنٹ دوڑا دوڑاباہر لان میں آیا۔ منٹوں میں درختوں کے نیچے دبے ہوئے آدمی کے گرد مجمع اکٹھا ہوگیا۔ ”بے چارہ!جامن کا پیڑ،کتنا پھل دار تھا!" ایک کلرک بولا۔ "اور اس کی جامنیں کتنی رسیلی ہوتی تھیں۔“ دوسرا کلرک یاد کرتے ہوئے بولا۔ ”میں پھلوں کے موسم میں جھولی بھرکے گھر لے جاتا تھا۔" " میرے بچے اس کی جامنیں کتنی خوشی سے کھاتے تھے۔“تیسرا کلرک تقریباً آبدیدہ ہوکر بولا۔ "مگریہ آدمی۔۔!!!" مالی نے دبے ہوئے آدمی کی طرف اشارہ کیا۔ "ہاں، یہ آدمی۔۔۔۔!" سپرنٹنڈنٹ سوچ میں پڑ گیا۔ ”مرگیا ہوگا!اتنا بھاری تنا جس کی پیٹھ پر گرے وہ بچ سکتا ہے؟“دوسرا چپراسی بولا۔ دبے ہوئے آدمی نے بمشکل کراہتے ہوئے کہا۔ ”نہیں!میں زندہ ہوں۔“ ”درخت کو ہٹا کر اسے جلدی سے نکال لینا چاہیے۔"مالی نے مشورہ دیا۔ ”مشکل معلوم ہوتا ہے۔"ایک ک...

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سارے حرفوں میں اک حرف پیارا بہت اور یکتا بہت سارے ناموں میں اک نام سوہنا بہت اور ہمارا بہت اُس کی شاخوں پہ آ کر زمانوں کے موسم بسیرا کریں اک شجر، جس کے دامن کا سایہ بہت اور گھنیرا بہت ایک آہٹ کی تحویل میں ہیں زمیں آسماں کی حدیں ایک آواز دیتی ہے پہرا بہت اور گھنیرا بہت جس دئیے کی توانائی ارض و سما کی حرارت بنی اُس دئیے کا ہمیں بھی حوالہ بہت اور اجالا بہت میری بینائی سے اور مرے ذہن سے محو ہوتا نہیں میں نے روئے محمدؐ کو سوچا بہت اور چاہا بہت میرے ہاتھوں سے اور میرے ہونٹوں سے خوشبو جاتی نہیں میں نے اسمِ محمدؐ کو لکھا بہت اور چُوما بہت بے یقیں راستوں پر سفر کرنے والے مسافر سنو بے سہاروں کا ہے اک سہارا بہت، کملی والا بہت

غزل

آپ ہیرا ، صدف ، نگیں ، کیوں ہیں آپ بے انتہا حسیں ، کیوں ہیں آپ کی کاکلوں کے جنگل میں اتنی موسیقیاں ، مکیں کیوں ہیں چاند خود بھی نہیں سمجھ پایا آپ اس درجہ مہ جبیں ، کیوں ہیں شمس حیراں ہے ، آپ کے عارض پھول ہو کر بھی ، آتشیں کیوں ہیں آپ اتنے دروغ گو ہو کر اس قدر قابلِ یقیں ، کیوں ہیں شاعروں کے دلوں پہ آپ چلیں گامزن ، برسرِ زمیں ، کیوں ہیں جتنے بے رحم دلربا ہیں ، عدم اتنے محبوب ، دلنشیں ، کیوں ہیں !!  عبدالحمید عدم

اب سو جائو

کیوں‌جاگتے ہو  کیا سوچتے ہو کچھ ہم سے کہو  تنہا نہ رہو  سوچا نہ کرو  یادوں کے برستے بادل  پلکوں پہ سجانا ٹھیک نہیں جو اپنے بس کی بات نہیں‌ اُس کو دہرانا ٹھیک نہیں‌ اب رات کی آ...