Skip to main content

Posts

مجھے اس گلی کا گدا کہو

نہ میرے سخن کو سخن کہو نہ مری نوا کو نوا کہو میری جاں کو صحنِ حرم کہو مرے دل کو غارِ حرا کہو میں لکھوں جو مدحِ شہہِ اُمم ﷺ اور جبرائیل بنیں قلم میں ہوں ایک ذرہء بےدرہم مگر آفتابِ ثناء کہو طلبِ شہہِ عربی کروں میں طوافِ حُبِ نبی ﷺ کروں مگر ایک بےادبی کروں مجھے اُس گلی کا گدا کہو نہ دھنک، نہ تارا، نہ پھول ہوں قدمِ حضور ﷺ کی دُھول ہوں میں شہیدِ عشقِ رسول ﷺ ہوں میری موت کو بھی بقا کہو جو غریب عشق نورد ہو اُسے کیوں نہ خواہشِ درد ہو میرا چہرہ کتنا ہی زرد ہو میری زندگی کو ہرا کہو ملے آپ سے سندِ وفا ہوں بلند مرتبہء صفا میں کہوں محمدِ مصطفیٰ ﷺ کہو تم بھی صلے علیٰ کہو وہ پیام ہیں کہ پیامبر وہ ہمارے جیسا نہیں مگر وہ ہے ایک آئینہء بشر مگر اُس کو عکسِ خدا کہو یہ مظفر ایسا مکین ہے کہ فلک پہ جس کی زمین ہے یہ سگِ براق نشین ہے اسے شہسوارِ صبا کہو (مظفر وارثی)

نمی دانم

نمی دانم چہ منزل بود ، شب جاۓ کہ من بودم بہ ہر سو رقص بسمل بود ، شب جاۓ کہ من بودم نہیں معلوم وہ کون سی منزل تھی جہاں گذشتہ رات میں تھا  ہر طرف  رقص بسمل تھا جہاں گذشتہ رات میں تھا  پری پیکر نگارے ، سرو قدے لالہ رخسارے سراپا آفت دل بود ، شب جاۓ کہ من بودم  محبوب پری پیکر تھا اس قدر سرو کی طرح اور رخسار گل لالہ جیسے تھے  دل کے لیۓ سراپا آفت تھا گذشتہ رات جہاں میں تھا  رقیباں گوش برآواز ، او در ناز و من ترساں سخن گفتن چہ مشکل بود ، شب جاۓ کہ من بودم رقیب آواز پر کان لگاۓ ہوۓ تھے جب کہ وہ محبوب ناز میں تھا اور میں خوف ذدہ تھا  وہاں بات کرنا ( کیا کہوں ) کس قدر مشکل تھا گذشتہ رات جہاں میں تھا  خدا خود میر مجلس بود ، اندر لامکاں خسرو محمد۴ شمع محفل بود ، شب جاۓ کہ من بودم  اے خسرو ، لامکاں میں خدا خود میر مجلس تھا اور حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس محفل کی شمع تھے گذشتہ رات جہاں میں تھا  کلام : حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ ترجمہ شہزادآحمد عثمانی

Children's Mental Health

A silent tragedy There is a silent tragedy that is developing day after day in our homes and concerns our most precious jewels: our children. Our children are in a devastating emotional state. Over the past 15 years, researchers have given us increasingly alarming statistics about a sharp and steady increase in childhood mental illness that is now reaching epidemic proportions: Statistics don't lie: • 1 in 5 children have mental health problems • A 43% increase in ADHD was noted • A 37% increase in adolescent depression was note What is going on and what are we doing wrong? Today's children are over-stimulated and overloaded with material objects, but they are deprived of what is truly fundamental for a healthy and happy childhood, such as: • Emotionally available parents • Clearly defined limits • Responsibility • Balanced nutrition and good sleep quality • Movement in the open air • Creative play, social interaction, unstructured play opportunities and spaces for boredom. Ins...

نا اھل اسان جو مالی آ

نا اھل اسان جو مالي آ معصوم وڻن جو ڇا ٿيندو بد ذوق جي ھٿ ۾ باغ رھيو ھن منھنجي چمن جو ڇا ٿيندو ڪانون کي اجازت ڪان ڪان جي بلبل جي صدا تي بندش آ ھر شاخ تي ظالم ويٺو آ مرغان چمن جو ڇا ٿيندو ھي نرم ۽ نازڪ ٻئي ھٿڙا مضبوط گلو خنجر جو وزن تون منھنجي ڪسڻ جو فڪر نہ ڪر پر تنھنجي ھٿن جو ڇا ٿيندو جتي مور ھئا اتي ڪانٔ ڪٻر ڍڀ ٿو پوکين جٿي آھي ڇٻر خراساني کي ناھي خبر ھن منھنجي متاء جو ڇا ٿيندو

Moringa Tree

سہانجنا_سوانجھڙو_Moringa  شاہ صاحب نے اس درخت کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اس درخت کے خشک پتے ہماری خوراک ہوتی تھی۔ ہم صبح ہتھیلی بھر کر پانی کے ساتھ یہ کھا لیتے تھے اور پھر دن بھر کسی چیز کی طلب نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کوئی کمزوری ہوتی۔ یہ ہم سادھوئوں کی خوراک تھی میں ایک دن انٹرنیٹ پر نئی تحقیق کی فائلیں چھان رہا تھا کہ میری نظر ایک فائل پر پڑی The Miracle Tree  ’’یعنی معجزاتی درخت‘‘ میں فوراً اس کی طرف لپکا اور اسے پڑھنا شروع کیا، کہ یہ معجزاتی درخت 300بیماریوں کا کامل علاج ہے جو کسی نہ کسی غذائی کمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس درخت کے خشک پتے 50گرام طاقت میں برابر ہیں۔ 4گلاس دودھ، 8مالٹے، 8 کیلے، 2پالک کی گڈیاں، ۲کپ دہی،18ایمائنو ایسڈز، 36 وٹامن او 96اینٹی اوکسیڈینٹ ‘میں حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا کہ یہ پودا کتنا طاقتور ہے، سبحان اللہ، وٹامن اے گاجر میں بہت زیادہ ہے مگر اس میں چار گناہ زیادہ ہے۔ فولاد پالک میں بہت زیادہ ہے مگر اس میں چار گناہ زیادہ ہے۔ پوٹاشیم کیلے میں بہت زیادہ ہے مگر اس میںتین گنا زیادہ ہے۔ وٹامن سی مالٹے میں بہت زیادہ ہے مگر اس میں سات گنا زیادہ ہے اسی طرح ان ا...

دریدہ پیرہنی

فسادِ ذات دریدہ پَیرہَنی کل بھی تھی اور آج بھی ہے مگر وُہ اورسبب تھا یہ اَور قِصہ ہے یہ رات اور ہے، وہ رات اور تھی ، جس میں ہر ایک اشک میں سارنگیاں سی بجتی تِھیں عجیب لذت ِ نظارہ تھی حجاب کے ساتھ ہر ایک زخم مہکتا تھا ماہتاب کے ساتھ یہی حیاتِ گُریزاں بڑی سہانی تھی نہ تم سے رنج نہ اپنے سے بد گُمانی تھی شکایت آج بھی تم سے نہیں کہ محرومی تمھارے در سے نہ ملتی تو گھر سے مل جاتی تمھارا عہد اگر اُستوار ہی ہوتا تو پھر بھی دامنِ دل تار تار ہی ہوتا خود اپنی ذات ہی ناخُن، خود اپنی ذات ہی زخم خُود اپنا دل رگِ جاں اَور خُود اپنا دِل نِشتر فساد ِ خلق بھی خُود اور فساد ِ ذات بھی خود سفر کا وقت بھی خود، جنگلوں کی رات بھی خود تمھاری سنگدلی سے خفا نہیں ہوتے کہ ہم سے اپنے ہی وعدے وفا نہیں ہوتے (مصطفیٰ زیدی)

کلام حضرت امیر خسرو

زی حالِ مسکیں ، مکن تغافل ، ورائے نیناں بنائے بتیاں کہ تابِ ہجراں نہ دارم اے جاں، نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں مجھ مسکین کے حال سے غفلت نہ برت، باتیں بنا کر آنکھیں نہ پھیر۔ اے محبوب ، اب مجھ میں جدائی سہنے کی تاب نہیں، مجھے اپنے سینے سے کیوں نہیں لگا لیتے؟ چوں شمعِ سوزاں ، چوں ذرہ حیراں، ہمیشہ گریہ بہ عشق آں میں نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں نہ بھیجی پتیاں عشق میں جلتی ہوئی شمع اور حیران و پریشان ذرے کی طرح میں ہمیشہ آہ و زاری کرتا ہوں۔آنکھوں میں نیند نہیں، جسم کو چین نہیں۔  وہ  خود آتا ہے، اور نہ  خط لکھتا ہے۔ شبانِ ہجراں دراز چوں زلف چہ روزِ وصلت چہ عمر کوتاہ سکھی ! پیا کو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں جدائی کی راتیں محبوب کی زلف جیسی لمبی ہیں، اور وصل کے دن عمر کے جیسے مختصر۔ اے سہیلی، اگر میں اپنے محبوب کو نہ دیکھوں، تو پھر یہ اندھیری راتیں کیسے کاٹوں؟ یکایک از دل دو چشمِ جادو بصد فریبم ببٗرد تسکیں کسے پڑی ہے جو جا سناوے ہمارے پی کو ہماری بتیاں؟ آن کی آن میں دو جادوگر آنکھیں سو دھوکے دے کر میرے دل کا سکون برباد کر گئیں۔ اب کسے اتنی فکر ہے کہ وہ میرے...