Skip to main content

Posts

رہنا ‏تھا ‏اس ‏کے ‏ساتھ ‏بہت ‏دیر ‏تک ‏مگر

تھی جس کی جستجو وہ حقیقت نہیں ملی ان بستیوں میں ہم کو رفاقت نہیں ملی اب تک ہیں اس گماں میں کہ ہم بھی ہیں دہر میں اس وہم سے نجات کی صورت نہیں ملی رہنا تھا اس کے ساتھ بہت دیر تک مگر ان روز وشب میں مجھ کو یہ فرصت نہیں ملی کہنا تھا جس کو اس سے کسی وقت میں مجھے اس بات کے کلام کی مہلت نہیں ملی کچھ دن کے بعد اس سے جدا ہو گئے منیر اس بے وفا سے اپنی طبیعت نہیں ملی

اک ‏سجن ‏ہوندا ‏سی

‏اِک سجّن ہوندا سی زہراں وِچ پتاسّے ورگا سُرمے سکّ دنداسّے ورگا دُکھاں وِچ دلاسے ورگا سجّرے چنّ دے ہاسّے ورگا اِک سجّن ہوندا سی الھڑّ شوخ ہواواں ورگّا دُھپاں دے وِچ چھاواں ورگا اوکھے ویلّے بانہواں ورگا اٹھے پہر دعاواں ورگا ارشاد سندھو

بہت ‏دنوں ‏بعد ‏

بہت دنوں بعد بہت دنوں بعد تیرے خط کے اداس لفظوں نے تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبو مری رگوں میں انڈیل دی ہے بہت دنوں بعد تیری باتیں تری ملاقات کی دھنک سے دہکتی راتیں اجاڑ آنکھوں کے پیاس پاتال کی تہوں میں وصال‌ وعدوں کی چند چنگاریوں کو سانسوں کی آنچ دے کر شریر شعلوں کی سرکشی کے تمام تیور سکھا گئی ہیں ترے مہکتے مہین لفظوں کی آبشاریں بہت دنوں بعد پھر سے مجھ کو رلا گئی ہیں بہت دنوں بعد میں نے سوچا تو یاد آیا کہ میرے اندر کی راکھ کے ڈھیر پر ابھی تک ترے زمانے لکھے ہوئے ہیں سبھی فسانے لکھے ہوئے ہیں بہت دنوں بعد میں نے سوچا تو یاد آیا کہ تیری یادوں کی کرچیاں مجھ سے کھو گئی ہیں ترے بدن کی تمام خوشبو بکھر گئی ہے ترے زمانے کی چاہتیں سب نشانیاں سب شرارتیں سب حکایتیں سب شکایتیں جو کبھی ہنر میں خیال تھیں خواب ہو گئی ہیں بہت دنوں بعد میں نے سوچا تو یاد آیا کہ میں بھی کتنا بدل گیا ہوں بچھڑ کے تجھ سے کئی لکیروں میں ڈھل گیا ہوں میں اپنے سگریٹ کے بے ارادہ دھوئیں کی صورت ہوا میں تحلیل ہو گیا ہوں نہ ڈھونڈھ میری وفا کے نقش قدم کے ریزے کہ میں تو تیری تلاش کے بے کنار صحرا میں وہم کے بے اماں بگولوں کے وار سہ...

نظم ‏

یاد رات اوڑھے ہوئے آئی ہے فقیروں کا لباس چاند کشکولِ گدائی کی طرح نادم ہے دل میں دہکے ہوئے ناسور لئے بیٹھا ہوں یہی معصوم تصور جو ترا مجرم ہے کون یہ وقت کے گھونگٹ سے بلاتا ہے مجھے کس کے مخمور اشارے ہیں گھٹاؤں کے قریب کون آیا ہے چڑھانے کو تمنّاؤں کے پھول ان سلگتے ہوئے لمحوں کی چتاؤں کے قریب وہ تو طوفان تھی، سیلاب نے پالا تھا اسے اس کی مدہوش اُمنگوں کا فسوں کیا کہیے تھر تھراتے ہوئے سیماب کی تفسیر بھی کیا رقص کرتے ہوئے شعلے کا جنوں کیا کہیے رقص اب ختم ہوا موت کی وادی میں مگر کسی پائل کی صدا روح میں پایندہ ہے چھپ گیا اپنے نہاں خانے میں سورج لیکن دل میں سورج کی اک آوارہ کرن زندہ ہے کون جانے کہ یہ آوارہ کرن بھی چھپ جائے کون جانے کہ اِدھر دھند کا بادل نہ چھٹے کس کو معلوم کہ پائل کی صدا بھی کھو جائے کس کو معلوم کہ یہ رات بھی کاٹے نہ کٹے زندگی نیند میں ڈوبے ہوئے مندر کی طرح عہدِ رفتہ کے ہر اک بت کو لئے سوتی ہے گھنٹیاں اب بھی مگر بجتی ہیں سینے کے قریب اب بھی پچھلے کو، کئی بار سحر ہوتی ہے مصطفیٰ زیدی

غزل

دوست بھی ملتے ہیں محفل بھی جمی رہتی ہے تو نہیں ہوتا تو ہر شے میں کمی رہتی ہے اب کے جانے کا نہیں موسم گر یہ شاید مسکرائیں بھی تو آنکھوں میں نمی رہتی ہے عشق عمروں کی مسافت ہے کسے کیا معلوم؟ کب تلک ہم سفری ہم قدمی رہتی ہے کچھ دلوں میں کبھی کھلتے نہیں چاہت کے گلاب کچھ جزیروں پہ سدا دھند جمی رہتی ہے

یہ ‏ترک ‏تعلق ‏کا ‏کیا ‏تذکرہ ‏ہے ‏

کر رہی درحقیقت کام ساقی کی نظر مے کدے میں گردش ساغر برائے نام ہے پھروں ڈھونڈھتا میکدہ توبہ توبہ مجھے آج کل اتنی فرصت نہیں ہے سلامت رہے تیری آنکھوں کی مستی مجھے مہ کشی کی ضرورت نہیں ہے گرہ بندی گلہ نہیں جو گریزاں ہیں چند پیمانے نگاہ یار سلامت ہزار میخانے سرور چیز کی مقدار پر نہیں موقوف شراب کم ہے تو ساقی نظر ملا کر پلا جام پر جام پینے سے کیا فائدہ؟ رات گزری تو سار ی اتر جائیگی تیری نظروں سے پی ہے خدا کی قسم عمر ساری نشے میں گزر جائے گی یہ ترک تعلق کا کیا تذکرہ ہے؟ تمھارے سوا کوئی اپنا نہیں ہے اگر تم کہو تو میں خود کو بھلادوں تمھیں بھول جانے کی طاقت نہیں ہے گرہ بندی اک بار عقل نے چاہا تھا تجھ کو بھلانا سوبار جنوں نے تیری تصویر دکھادی ہر اک موڑ پر اک نئی مات کھائی رہی دل کی دل میں زباں پر نہ آئی کئے ہیں کچھ ایسے کرم دوستوں نے کہ اب دشمنوں کی ضرورت نہیں ہے گرہ بندی ہمیشہ میرے سامنے سے گزرنا نگاہیں چراکر مجھے دیکھ لانا میری جان تم مجھ کو اتنا بتادو یہ کیا چیز ہے گر محبت نہیں ہے ہزاروں تمنائیں ہوتی ہیں دل میں ہماری تو بس اک تمنا یہی ہے مجھے اک دفعہ اپنا کہہ کہ پکارو بس اسکے سوا کوئی حسرت نہی...

مٹی

‏مٹی دا توں، مٹی ہونا، کاہدی  بلے بلے اج مٹی دے اتے بندیا، کل مٹی دے تھلے بابا بلھے شاہ