Skip to main content

Posts

نظم

ہر نئے سال کی آمد پہ یہ خوش فہم ترے  پھر سے آراستہ کرتے ہیں در و بام اپنے  پھر سے واماندہ ارادوں کو تسّلی دینے  ہم بھُلا دیتے ہیں کچھ دیر کو آلام اپنے  گُل شدہ  شمعوں کو ہم پھر سے جلا دیتے ہیں  پھر سے ویرانئی قسمت کو دعا دیتے ہیں یوں ہی ہر سال مرے دیس کی بے بس خلقت  پھر سے ادوار کے انبار میں دب جاتی ہے  خود فریبی کے تبسّم کو سجا لینے سے  شدّتِ کرب بھلا چہروں سے کب جاتی ہے  منزلِ شوق کا اب کوئی بھی دلدادہ نہیں  وہ تھکن ہے کہ مسافر سفر آمادہ نہیں  اک نظر دیکھ یہ انبوہ دَر انبوہ غلام  جو فقط شومئی تقدیر سے وابستہ ہیں  اِن کو کچھ بھی تو بجز وعدۂ فردا نہ ملا  یہ جو خود ساختہ زنجیر سے پابستہ ہیں  اِن کا ایک ایک نفس رہن ہے اغیار کے پاس  اب تو غمخوار بھی آتے نہیں بیمار کے پاس    احمد فراز

قطعہ

خوابِ دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں چلئے پہلے نہیں پوچھا تھا تو اب پوچھتے ہیں کیسے بے مہر ہیں اس شہرِدل آزار کے لوگ موجِ خوں سر سے گزر جاتی ہے تب پوچھتے ہیں افتخارؔ عارف

قطعہ

نصاب زندگی جس پر لکھا ہے کتاب دل وہ بستے میں پڑی ہے ایسے ڈھونڈنے نکلے ہیں جیسے محبت کوٸی رستے میں پڑی ہے

نظم

تمھیں چھونے کی خواہش میں  نجانے ضبط کے کتنے کڑے موسم  تمہارے سامنے بیٹھے ہوئے میں نے گذارے ہیں  مجھے معلوم ہے چھونے سے تم کو یہ نہیں ہو گا  مرے ہاتھوں کی پوروں پر کئی جگنو دمک اٹھیں  تمہارے لمس کی خوشبو مری رگ رگ میں بس جائے  مگر شاید یہ ممکن ہے تمہارے لمس کو پا کر  سلگتے دل کی دھرتی پر کوئی بادل برس جائے  مگر جاناں حقیقت ہے تمھیں میں چھو نہیں سکتا!  اگرچہ لفظ یہ میرے   تمہاری سوچ میں رہتے، تمہارے خواب چھوتے ہیں  تمھیں میں چھو نہیں سکتا  مجھے تم سے محبت سے کہیں زیادہ محبت ہے  میں ڈرتا ہوں کہیں چھونے سے تم پتھر نا ہو جاؤ  میں وہ جس نے تمھیں تتلی کے رنگوں سے سجایا ہے  میں وہ جس نے تمھیں لکھا ہے جب بھی پھول لکھاہے  بھلا کیسے میں اس پیکر کو چھو لوں اور ساری عمر  میں اک پتھر کی مورت کو سجا لوں اپنے خوابو ں میں  مجھے تم سے محبت سے کہیں زیادہ محبت ہے  تمھیں پتھر اگر کر لوں تو خود بھی ٹوٹ جاؤ ں گا  سنو جاناں!  بھلے وہ ضبط کے موسم کڑے ہوں ذات پہ میری  تمھیں میں چھو نہیں سکتا ن.م

قطعہ

قاتل کی یہ ہے دلیل منصف نے مان لی مقتول خود گرا تھا خنجر کی نوک پر پھر وہی بات وہی قصہ پرانا نکلا حاکم وقت سے منصف کا یارانہ نکلا نامعلوم