Skip to main content

Posts

وقت سفر قریب ہے

وقت سفر قریب ہے بستر سمیٹ لوں . بکھرا ہوا حیات کا دفتر سمیٹ لوں . پھر جانے ہم ملیں نا ملیں ، ذرا رکو ! میں دل کے آئینے میں یہ منظر سمیٹ لوں . غیروں نے جو سلوک کیے انکا کیا گلہ ، پھینکے ہیں دوستوں نے جو وہ پتھر سمیٹ لوں . اَجْمَل بھڑک رہی ہے زمانے میں جتنی آگ ، ، جی چاہتا ہے سینے کے اندر سمیٹ لوں . . ،

کہیں مت جائو

تم یہاں ہو اور کہی مت جاو تم میری آخری سسکی تک ٹھہرو اور مجھ سے کسی خوف زدہ شخص کی طرح لپٹ جاو کہ کبھی ایک اجنبی سایہ تمہاری آنکھوں سے گزرا تھا اب بھی ہاں ابھی بھی تم میرے لئے شہد آشام بنتی ہو تمہارے پستانوں میں اس کی خوشبو رچی ہے جس لمحے اداس ہوا تتلیوں کا قتل کرتے گزرتی ہے میں تم سے محبت کرتا ہوں میری مسرت تمہارے ہونٹوں کے میٹھے پھل چکھتی ہے تم نے کس قدر میری عادی ہوجانے کا دکھ سہا ہوگا میری وحشی تنہا روح میرا نام جسے سب چھوڑ جاتے ہیں کئی بار ہم نے صبح کے بجھتے ستارے کو ہماری آنکھیں چھومتے دیکھا ہمارے سروں پر مٹیالی روشنی کو ہوا میں ڈھلتے دیکھا میرے الفاظ تم پر بارش بن کر برسے طویل عرصے تک میں نے تمہارے بدن کے چمکتے سیپ سے محبت کی میں اکثر سوچتا ہوں تم میری ساری کائنات ہو میں تمہارے لئے پہاڑوں سے مسکراتے پھول نیلے سوسن ٫ گہری دھند اور بوسوں سے بھری ٹوکریاں لاؤں گا میں تمہارے ساتھ وہ کرنا چاہتا ہوں جو بہار چیری کے سفید درختوں سے کرتی ہے ~ پابلو نیرودا ( چلی ) مترجم ~ ذاہد امروز

شعور

مولانا جلال الدین رومی نے خوبصورت ترین بات کی کہ   شعور  کا پہلا درجہ خاموش رہنے کی عادت                             اور دوسرا درجہ  بدتمیزی کا جواب نہ دینا اور تیسرا درجہ بد اخلاقی  کا جواب  اَخلاق سے دینا ہے

نظم

ہر نئے سال کی آمد پہ یہ خوش فہم ترے  پھر سے آراستہ کرتے ہیں در و بام اپنے  پھر سے واماندہ ارادوں کو تسّلی دینے  ہم بھُلا دیتے ہیں کچھ دیر کو آلام اپنے  گُل شدہ  شمعوں کو ہم پھر سے جلا دیتے ہیں  پھر سے ویرانئی قسمت کو دعا دیتے ہیں یوں ہی ہر سال مرے دیس کی بے بس خلقت  پھر سے ادوار کے انبار میں دب جاتی ہے  خود فریبی کے تبسّم کو سجا لینے سے  شدّتِ کرب بھلا چہروں سے کب جاتی ہے  منزلِ شوق کا اب کوئی بھی دلدادہ نہیں  وہ تھکن ہے کہ مسافر سفر آمادہ نہیں  اک نظر دیکھ یہ انبوہ دَر انبوہ غلام  جو فقط شومئی تقدیر سے وابستہ ہیں  اِن کو کچھ بھی تو بجز وعدۂ فردا نہ ملا  یہ جو خود ساختہ زنجیر سے پابستہ ہیں  اِن کا ایک ایک نفس رہن ہے اغیار کے پاس  اب تو غمخوار بھی آتے نہیں بیمار کے پاس    احمد فراز

قطعہ

خوابِ دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں چلئے پہلے نہیں پوچھا تھا تو اب پوچھتے ہیں کیسے بے مہر ہیں اس شہرِدل آزار کے لوگ موجِ خوں سر سے گزر جاتی ہے تب پوچھتے ہیں افتخارؔ عارف

قطعہ

نصاب زندگی جس پر لکھا ہے کتاب دل وہ بستے میں پڑی ہے ایسے ڈھونڈنے نکلے ہیں جیسے محبت کوٸی رستے میں پڑی ہے

نظم

تمھیں چھونے کی خواہش میں  نجانے ضبط کے کتنے کڑے موسم  تمہارے سامنے بیٹھے ہوئے میں نے گذارے ہیں  مجھے معلوم ہے چھونے سے تم کو یہ نہیں ہو گا  مرے ہاتھوں کی پوروں پر کئی جگنو دمک اٹھیں  تمہارے لمس کی خوشبو مری رگ رگ میں بس جائے  مگر شاید یہ ممکن ہے تمہارے لمس کو پا کر  سلگتے دل کی دھرتی پر کوئی بادل برس جائے  مگر جاناں حقیقت ہے تمھیں میں چھو نہیں سکتا!  اگرچہ لفظ یہ میرے   تمہاری سوچ میں رہتے، تمہارے خواب چھوتے ہیں  تمھیں میں چھو نہیں سکتا  مجھے تم سے محبت سے کہیں زیادہ محبت ہے  میں ڈرتا ہوں کہیں چھونے سے تم پتھر نا ہو جاؤ  میں وہ جس نے تمھیں تتلی کے رنگوں سے سجایا ہے  میں وہ جس نے تمھیں لکھا ہے جب بھی پھول لکھاہے  بھلا کیسے میں اس پیکر کو چھو لوں اور ساری عمر  میں اک پتھر کی مورت کو سجا لوں اپنے خوابو ں میں  مجھے تم سے محبت سے کہیں زیادہ محبت ہے  تمھیں پتھر اگر کر لوں تو خود بھی ٹوٹ جاؤ ں گا  سنو جاناں!  بھلے وہ ضبط کے موسم کڑے ہوں ذات پہ میری  تمھیں میں چھو نہیں سکتا ن.م