Skip to main content

Posts

ہم خریدے گئے گرانی میں

اب دوبارہ فروخت مشکل ہے ہم خریدے گئے گرانی میں ہم کو رکھا گیا نشانے پر زخم بھیجے گئے نشانی میں میں کہانی میں تم پہ مرتا تھا جھوٹ ہوتا ہے سب کہانی میں جناب احسان الحق مظہر 

قطعہ

ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ، ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺭﮨﻮ ، ﺭﺍﮦ تَکو ، ﻣﺮ ﺟﺎﺅ ﻭﻋﺪﮦِ ﯾﺎﺭ ﮨﮯ ، ﺳﭽﺎ ﺗﻮ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﻘﺘﻞ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﮯ ، ﺗﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﻮ ﮔﮯ ﮐﻮﭼﮧِ ﯾﺎﺭ ﮨﮯ ، ﺍﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ مجروح سلطانپوری

کیا بات کریں گے

میں سوچتا ہوں ہم دن میں ملے  اور ملاقات ہم ساری رات کریں گے  پھر سوچتا ہوں ہم ملے بھی اگر  ہم اتنی لمبی کونسی٬ کیا بات کریں گے 

وقت سفر قریب ہے

وقت سفر قریب ہے بستر سمیٹ لوں . بکھرا ہوا حیات کا دفتر سمیٹ لوں . پھر جانے ہم ملیں نا ملیں ، ذرا رکو ! میں دل کے آئینے میں یہ منظر سمیٹ لوں . غیروں نے جو سلوک کیے انکا کیا گلہ ، پھینکے ہیں دوستوں نے جو وہ پتھر سمیٹ لوں . اَجْمَل بھڑک رہی ہے زمانے میں جتنی آگ ، ، جی چاہتا ہے سینے کے اندر سمیٹ لوں . . ،

کہیں مت جائو

تم یہاں ہو اور کہی مت جاو تم میری آخری سسکی تک ٹھہرو اور مجھ سے کسی خوف زدہ شخص کی طرح لپٹ جاو کہ کبھی ایک اجنبی سایہ تمہاری آنکھوں سے گزرا تھا اب بھی ہاں ابھی بھی تم میرے لئے شہد آشام بنتی ہو تمہارے پستانوں میں اس کی خوشبو رچی ہے جس لمحے اداس ہوا تتلیوں کا قتل کرتے گزرتی ہے میں تم سے محبت کرتا ہوں میری مسرت تمہارے ہونٹوں کے میٹھے پھل چکھتی ہے تم نے کس قدر میری عادی ہوجانے کا دکھ سہا ہوگا میری وحشی تنہا روح میرا نام جسے سب چھوڑ جاتے ہیں کئی بار ہم نے صبح کے بجھتے ستارے کو ہماری آنکھیں چھومتے دیکھا ہمارے سروں پر مٹیالی روشنی کو ہوا میں ڈھلتے دیکھا میرے الفاظ تم پر بارش بن کر برسے طویل عرصے تک میں نے تمہارے بدن کے چمکتے سیپ سے محبت کی میں اکثر سوچتا ہوں تم میری ساری کائنات ہو میں تمہارے لئے پہاڑوں سے مسکراتے پھول نیلے سوسن ٫ گہری دھند اور بوسوں سے بھری ٹوکریاں لاؤں گا میں تمہارے ساتھ وہ کرنا چاہتا ہوں جو بہار چیری کے سفید درختوں سے کرتی ہے ~ پابلو نیرودا ( چلی ) مترجم ~ ذاہد امروز