Skip to main content

لوگ طوفاں اٹھا دیں گے

تو کسی اور کی جاگیر ہے اے جان غزل
لوگ طوفان اٹھا دیں گے میرے ساتھ نہ چل

پہلے حق تھا تیری چاہت کے چمن پے میرا
پہلے حق تھا تیری خوشبو بدن پے میرا
اب میرا پیار تیرے پیار کا حق دار نہیں
میں تیرے گیسو ے خمدار کا حق دار نہیں
اب کسی اور کے شانوں پہ ہے تیرا آنچل
لوگ طوفان اٹھا دیں گے میرے ساتھ نہ چل

میں تیرے پیار سے گھر اپنا بساؤں کیسے
میں تیری مانگ ستاروں سے سجاؤں کیسے
میری قسمت میں نہیں پیار کی خوشبو شاید
میرے ہاتھوں کی لکیروں میں تُو نہیں شاید
اپنی تقدیر بنا میرا مقدر نہ بدل
لوگ طوفان اٹھا دیں گے میرے ساتھ نہ چل

مجھ سے کہتی ہیں یہ خاموش نگاہیں تیری
میری پرواز سے اونچی ہیں پناہیں تیری
اور غیرت احساس پہ شرمندہ ہوں
اب کسی اور کی بانہوں میں ہیں بانہیں تیری
اب کہاں میرا ٹھکانہ ہے کہاں تیرا محل
لوگ طوفان اٹھا دیں گے میرے ساتھ نہ چل

Comments