شرحِ فراق ، مدحِ لبِ مُشکبُو کریں.
غُربت کدے میں کِس سے تِری گُفتگُو کریں.
یار آشنا نہیں کوئی ، ٹکرائیں کِس سے جام.
کِس دِل رُبا کے نام پہ خالی سَبُو کریں.
سینے پہ ہاتھ ہے نہ نظر کو تلاشِ بام.
دِل ساتھ دے، تو آج غمِ آرزُو کریں.
کب تک سُنے گی رات ، کہاں تک سُنائیں ہم.
شِکوے گِلے سب آج تِرے رُو برُو کریں.
ہمدم حَدِیثِ کوُئے مَلامت سُنائیو.
دِل کو لہوُ کریں، کہ گریباں رفوُ کریں.
آشُفتہ سر ہیں ، مُحتَسبو، مُنہ نہ آئیو.
سر بیچ دیں تو فکرِ دِل و جاں عُدو کریں.
تر دامنی پہ، شیخ! ہماری نہ جائیو .
دامن نچوڑ دیں، تو فرشتے وضُو کریں.
فیض احمد فیضؔ
لڑکو! تم بڑے ہو گے تو تمہیں افسوس ہوگا۔ جوں جوں تمہارا تجربہ بڑھتاجائے گا، تمہارے خیالات میں پختگی آتی جائے گی اور یہ افسوس بھی بڑھتا جائے گا۔یہ خواب پھیکے پڑتے جا ئیں گے۔ تب اپنے آپ کو فر یب نہ دے سکو گے۔بڑے ہو کر تمہیں معلوم ہو گا کہ زندگی بڑی مشکل ہے۔جینے کے لیئے مرتبے کی ضرورت ہے۔آسائش کی ضرورت ہےاور ان کے لیئے روپے کی ضرورت ہے۔اور روپیہ حاصل کرنے کے لیے مقابلہ ہوتا ہے۔مقابلے میں جھوٹ بولنا پڑتا ہے،دھوکا دینا پڑتا ہے،غداری کرنی پڑتی ہے۔یہاں کوئی کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔دنیا میں دوستی ،محبت،انس،سب رشتے مطلب پر قائم ہیں۔محبت آمیز باتوں ،مسکراہٹوں،مہر بانیوں،شفقتوں--ان سب کی تہہ میں کوئی غرض پوشیدہ ہے۔یہاں تک کہ خدا کو بھی لوگ ضرورت پڑنے پر یاد کرتے ہیں۔اور جب خدا دعا قبول نہیں کرتا تو لوگ دہریے بن جاتے ہیں،اس کے وجود سے منکر ہو جاتے ہیں۔اور دنیا کو تم کبھی خوش نہیں رکھ سکتے۔اگر تم سادہ لوح ہوئے تو دنیا تم پر ہنسےگی،تمہارا مذاق اُڑاے گی۔اگر عقلمند ہوئے تو حسد کرے گی۔اگر الگ تھلگ رہے تو تمہیں چڑچڑا اور مکار گردانا جائے گا۔اگر ہر ایک سے گھل مل کر رہے تو تمہیں خوشامدی سمجھا جائے گا۔اگر سو...
Comments
Post a Comment