ا✍
ڈاکٹر یونس بٹ کا بہت پیارا تجزیہ۔۔۔۔۔
_جب نواز شریف اور کلنٹن ملے تو کھانے کے بعد کلنٹن نے نواز شریف کو بتایا “میں تو اپنی کابینہ کے ممبران کی اہلیت و قابلیت کا امتحان لے کر انہیں منتخب کرتا ہوں “._
*یہ سن کر نواز شریف بڑے حیران ہوے پوچھا “آپ ان کی اہلیت و قابلیت کا امتحان کیسے لیتے ہیں ؟”*
_بل کلنٹن نے کہا “ایک منٹ میں دکھا دیتا ہوں .”_ *کلنٹن نے میڈیلین البرائٹ کو بلایا اور کہا “میڈیلین مجھے بتاؤ وہ کون ہے جو آپ کے والد کی اولاد ہے اور آپ کی ماں کا بچہ ہے مگر آپ کا نہ بھائی لگتا ہے نہ بہن ۔؟*
*_” میڈیلین نے کہا “بہت آسان ہے وہ میں ہوں “.*
_کلنٹن نے میڈیلین کی تعریف کی . نواز شریف بہت متاثر ہوے جب اسلام آباد آے تو امریکی کابینہ کے ارکان کی ذہانت کے بہت متعرف تھے ._
_انہوں نے اپنی کابینہ کی ذہانت چیک کرنے کے لئے سرتاج عزیز کو بلایا اور کھا “سرتاج عزیز بتاؤ وہ کون ہے جو آپ کے والد کی اولاد ہے اور آپ کی ماں کا بچہ ہے مگر آپ کا نہ بھائی لگتا ہے نہ بہن۔؟_
*” سرتاج عزیز نے سوچا ، جواب نہ بن پڑا تو کہا ” مجھے سوچ بچار کے لئے 24 گھنٹے عنایت کر دیں ”* _نواز شریف نے کہا “پرانے ساتھی ہو ، تمہیں یہ مہلت دے دیتا ہوں۔_
_” سرتاج عزیز دیکھنے میں بھی “پرانے”ساتھی ہی لگتے ہیں – پھر ان کا سر بھی تاج لگتا ہے . بہرحال انہوں نے سوچا، جواب نہ بن پڑا…_
_انہوں نے کیبنٹ سیکرٹری ، چیف سیکرٹری ، اور جائنٹ سیکریٹری کو بلوایا – پورا بجٹ تیار ہو گیا مگر جواب نہ ملا – 20 گھنٹے گزر گئے ._
_سرتاج عزیز بڑے فکرمند ہوے . صرف چار گھنٹے بچے تھے . انہوں نے بلآخر جارج فرنینڈ س کو فون کیا اور پوچھا ”_
*وہ کون ہے جو آپ کے والد کی اولاد ہے اور آپ کی ماں کا بچہ ہے مگر آپ کا نہ بھائی لگتا ہے نہ بہن؟*
_“. جارج فرنینڈس نے کہا “بہت آسان ، وہ میں ہوں۔_
_“. سرتاج عزیز خوش ہوے . انہوں نے نواز شریف کو فون کیا کہ وزیر اعظم صاحب ، مجھے اس سوال کا جواب مل گیا ہے اور_ *جواب ہے “جارج فرنینڈس ”*
_اس پر نواز شریف نے ناراض ہوتے ہوے کہا_
*“یہ جواب غلط ہے ، صحیح جواب ہے میڈیلین البرائٹ”-*
_(اقتباس بٹ پارے- ڈاکٹر یونس بٹ)_
لڑکو! تم بڑے ہو گے تو تمہیں افسوس ہوگا۔ جوں جوں تمہارا تجربہ بڑھتاجائے گا، تمہارے خیالات میں پختگی آتی جائے گی اور یہ افسوس بھی بڑھتا جائے گا۔یہ خواب پھیکے پڑتے جا ئیں گے۔ تب اپنے آپ کو فر یب نہ دے سکو گے۔بڑے ہو کر تمہیں معلوم ہو گا کہ زندگی بڑی مشکل ہے۔جینے کے لیئے مرتبے کی ضرورت ہے۔آسائش کی ضرورت ہےاور ان کے لیئے روپے کی ضرورت ہے۔اور روپیہ حاصل کرنے کے لیے مقابلہ ہوتا ہے۔مقابلے میں جھوٹ بولنا پڑتا ہے،دھوکا دینا پڑتا ہے،غداری کرنی پڑتی ہے۔یہاں کوئی کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔دنیا میں دوستی ،محبت،انس،سب رشتے مطلب پر قائم ہیں۔محبت آمیز باتوں ،مسکراہٹوں،مہر بانیوں،شفقتوں--ان سب کی تہہ میں کوئی غرض پوشیدہ ہے۔یہاں تک کہ خدا کو بھی لوگ ضرورت پڑنے پر یاد کرتے ہیں۔اور جب خدا دعا قبول نہیں کرتا تو لوگ دہریے بن جاتے ہیں،اس کے وجود سے منکر ہو جاتے ہیں۔اور دنیا کو تم کبھی خوش نہیں رکھ سکتے۔اگر تم سادہ لوح ہوئے تو دنیا تم پر ہنسےگی،تمہارا مذاق اُڑاے گی۔اگر عقلمند ہوئے تو حسد کرے گی۔اگر الگ تھلگ رہے تو تمہیں چڑچڑا اور مکار گردانا جائے گا۔اگر ہر ایک سے گھل مل کر رہے تو تمہیں خوشامدی سمجھا جائے گا۔اگر سو...
Comments
Post a Comment