Skip to main content

غزل

جن راتوں میں نیند اڑ جاتی ہے کیا قہر کی راتیں ہوتی ہیں 

دروازوں سے ٹکرا جاتے ہیں دیواروں سے باتیں ہوتی ہیں 

آشوب جدائی کیا کہئے انہونی باتیں ہوتی ہیں 

آنکھوں میں اندھیرا چھاتا ہے جب اجیالی راتیں ہوتی ہیں 

جب وہ نہیں ہوتے پہلو میں اور لمبی راتیں ہوتی ہیں 

یاد آ کے ستاتی رہتی ہے اور دل سے باتیں ہوتی ہیں 

گھرگھر کے بادل آتے ہیں اور بے برسے کھل جاتے ہیں 

امیدوں کی جھوٹی دنیا میں سوکھی برساتیں ہوتی ہیں 

امید کا سورج ڈوبا ہے آنکھوں میں اندھیرا چھایا ہے 

دنیائے فراق میں دن کیسا راتیں ہی راتیں ہوتی ہیں 

طے کرنا ہیں جھگڑے جینے کے جس طرح بنے کہتے سنتے 

بحروں سے بھی پالا پڑتا ہے گونگوں سے بھی باتیں ہوتی ہیں 

آنکھوں میں کہاں رس کی بوندیں کچھ ہے تو لہوں کی لالی ہے 

اس بدلی ہوئی رت میں اب تو خونیں برساتیں ہوتی ہیں 

قسمت جاگے تو ہم سوئیں قسمت سوئے تو ہم جاگیں 

دونوں ہی کو نیند آئے جس میں کب ایسی راتیں ہوتی ہیں 

جو کان لگا کر سنتے ہیں کیا جانیں رموز محبت کے 

اب ہونٹ نہیں ہلنے پاتے ہیں اور پہروں باتیں ہوتی ہیں 

ہنسنے میں جو آنسو آتے ہیں نیرنگ جہاں بتلاتے ہیں 

ہر روز جنازے جاتے ہیں ہر روز براتیں ہوتی ہیں 

Comments