Skip to main content

Posts

کرگس کا جہاں اور

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں. کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور. الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن. ملا کی اذان اور ہے مجاہد کی اذاں اور. (علامہ اقبال)

جب تیرے شہر سے گزرتا ہوں

جب ترے شہر سے گزرتا ہوں  کس طرح روکتا ہوں اشک اپنے کس قدر دل پہ جبر کرتا ہوں جب ترے شہر سے گزرتا ہوں اس قدر بھی نہیں مجھے معلوم کس محلے میں ہے مکاں تیرا کون سی شاخ ِ گل پہ رقصاں ہے جانے رشک ِ فردوس، آشیاں تیرا جانے کن وادیوں میں اترا ہے غیرت ِ حسن، کارواں تیرا کس سے پوچھوں گا میں خبر تیری کون بتلائے گا نشاں تیرا تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں جب ترے شہر سے گزرتا ہوں حال ِ دل بھی نہ کہہ سکا گرچہ تو رہی مدتوں قریب مرے کچھ تری عظمتوں کا ڈر بھی تھا کچھ خیالات تھے عجیب مرے آخرِ کار وہ گھڑی آئی باروَر ہوگئے رقیب مرے تو مجھے چھوڑ کر چلی بھی گئی خیر ! قسمت مری، نصیب مرے اب میں کیوں تجھ کو یاد کرتا ہوں جب ترے شہر سے گزرتا ہوں گو زمانہ تری محبت کا ایک بھولی ہوئی کہانی ہے تیرے کوچے میں عمر بھر نہ گئے ساری دنیا کی خاک چھانی ہے لذت ِ وصل ہو کہ زخم فراق جو بھی ہو تیری مہربانی ہے کس تمنا سے تجھ کو چاہا تھا کس محبت سے ہار مانی ہے اپنی قمست پہ ناز کرتا ہوں جب ترے شہر سے گزرتا ہوں اشک پلکوں پہ آ نہیں سکتے دل میں ہے تیری آبرو اب بھی تجھ سے روشن ہے کائنات مری تیرے...

غزل

وسعتِ چشم کو اندوہِ بصارت لکھا میں نے اک وصل کو اک ہجر کی حالت لکھا میں نے لکھا کہ صفِ دل کبھی خالی نہ ہوئی اور خالی جو ہوئی بھی تو ملامت لکھا یہ سفر پاؤں ہلانے کا نہیں آنکھ کا ہے میں نے اس باب میں رکنے کو مسافت لکھا لکھنے والوں نے تو ہونے کا سبب لکھا ہے میں نے ہونے کو نہ ہونے کی وضاحت لکھا اشک اگر سب نے لکھے میں نے ستارے لکھے عاجزی سب نے لکھی میں نے عبادت لکھا میں نے خوشبو کو لکھا دسترسِ گمشدگی رنگ کو فاصلہ رکھنے کی رعایت لکھا زخم لکھنے کے لئے میں نے لکھی ہے غفلت خون لکھنا تھا مگر میں نے حرارت لکھا میں نے پرواز لکھی حدِ فلک سے آگے اور بے بال و پری کو بھی نہایت لکھا حسنِ گویائی کو لکھنا تھا لکھی سرگوشی شور لکھنا تھا سو آزارِ سماعت لکھا اتنے دعوؤں سے گذر کر یہ خیال آتا ہے عزم کیا تم نے کبھی حرفِ ندامت لکھا (عزم بہزاد)

نظم

خواھشوں کے آنگن میں ۔۔۔۔۔ رات دن بسیرے تھے !! تتلیاں تمہاری تھیں۔۔۔۔۔۔ اور پھول میرے تھے !! چاند آسمانوں سے، جب زمین پہ اترتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیکھنے میں راتیں تھی اصل میں سویرے تھے !!! تیرے پاس بسنے کی کھائی تھی قسم ، لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ شہر بھی پیارا تھا، لوگ بھی لُٹیرے تھے ۔۔۔۔۔۔ !!! لوٹ گئے ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محسن !!! تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قصور کس کا ھے ؟؟ خواھشیں بھی تیری تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! فیصلے بھی تیرے تھے ۔۔۔۔۔

نظم

اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے کنکر سا کوئی کھٹک رہا ہے میں اُس کے خیال سے گُریزاں وہ میری صدا جھٹک رہا ہے تحریر اسی کی ہے، مگر دل خط پڑھتے ہوئے اٹک رہا ہے ہیں فون پہ کس کے ساتھ باتیں اور، ذہن کہاں بھٹک رہا ہے صدیوں سے سفر میں ہے سمندر ساحِل پہ تھکن پٹک رہا ہے اک چاند صلیبِ شاخِ گُل پر بالی کی طرح لٹک رہا ہے پروینؔ شاکر

تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے

خموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں، دلوں میں اُلفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو میں، ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی نہ آئے گی نیند تم کو، ابھی نہ ہم کو سکوں ملے گا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ، ابھی یہ چاہت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے، چلو چمن میں ٹہل کے آئیں فضا میں خوشبو نئی نئی ہے، گلوں میں رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا، کہ آ کے بیٹھے ہو پہلی صف میں ابھی سے اڑنے لگے ہوا میں، ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہو رہی ہے، پُرانے جانباز سو رہے ہیں غلام دُنیا کو کر رہاہے، وہ جسکی طاقت نئی نئی ہے (شبینہ ادیب کانپوری)​

فارسی غزل بمعہ اردو ترجمہ

بیا و جوش تمنای دیدنم بنگر چو اشک از سر مژگاں چیکدنم بنگر (آؤ اور میرے شوق دیدار کی انتہا دیکھو میرے آنسوؤں کو پلکوں سے ٹپکتے ہوئے دیکھو) شنیدہ ام کہ نبینی و نا امید نیم ندیدن تو شنیدم، شنیدنم بنگر (مجھے تمہاری بے رخی کا پتا ہے لیکن میں مایوس نہیں تمہاری بے رخی کا میں نے سنا، اب مجھے سنتے ہوئے دیکھو) دمید دانہ و بالید در آشیاں گہے شد در انتظار ہما دانہ چیدنم بنگر (چھوٹا سا دانہ بڑا ہو کہ درخت بنا آشیانوں کی جگہ بن گیا میرا جال میں دانہ ڈال کے انتظار ہما تو دیکھ ذرا) زمن بہ جرم تپیدن کنارہ می کردی بیا بہ خاک من و آرمیدنم بنگر (تم نے میرے جرم کی پاداش میں مجھ سے کنارہ کر لیا اب میری خاک پر آکر مجھے محو خواب دیکھو)