Skip to main content

Posts

سب دھاگے اس کے ھاتھ میں ہیں

زرا دیکھ کے چال ستاروں کی کوئی زائچہ کھینچ قلندرسا کوئی ایسا جنتر منتر پڑھ جو کر دے بخت سکندرسا کوئی چلہ ایسا کاٹ کہ پھر کوئی اسکی کاٹ نہ کر پائے کوئی ایسا دے تعویزمجھے وہ مجھ پر عاشق ہو جائے کوئی فال نکال کرشمہ گر مری راہ میں پھول گلاب آئیں کوئی پانی پھوک کے دے ایسا وہ پیئے تو میرے خواب آئیں کوئی ایسا کالا جادو کر جو جگمگ کر دے میرے دن وہ کہے مبارک جلدی آ اب جیا نہ جائے تیرے بن کوئی ایسی رہ پہ ڈال مجھے جس رہ سے وہ دلدار  ملے کوئی تسبیح دم درود بتا جسے پڑھوں تو میرا یار ملے کوئی قابو کر بے قابو جن کوئی سانپ نکال پٹاری سے کوئی دھاگہ کھینچ پراندے کا کوئی منکا اِکشا دھاری سے کوئی ایسا بول سکھا دے نا وہ سمجھے خوش گفتارہوں میں کوئی ایسا عمل کرا مجھ سے وہ جانے ، جان نثار ہوں میں کوئی ڈھونڈھ کے وہ کستوری لا اسے لگے میں چاند کے جیسا ہوں جو مرضی میرے یار کی ہے اسے لگے میں بالکل ویسا ہوں کوئی ایسا اسم اعظم پڑھ جواَشک بہادے سجدوں میں اور جیسے تیرا دعوی  ہے محبوب ہومیرے قدموں میں پر عامل رک ، اک بات کہوں یہ قدموں والی بات ہے کیا ؟ محبوب تو ہے سر آنکھو...

سات فضول کہانیاں

سات فضول کہانیاں 1 __ کوے سڑک کے اس جانب بلدیہ کے خاکروب ایک وی آئی پی قافلہ گذرنے سے پہلے عارضی جانفشانی کے ساتھ راستے کی صفائی کر رہے تھے اور سڑک کے دوسری جانب اسی بلدیہ کا کچر...

انداز تمہارے جیسا تھا

بارش کی برستی بوندوں نے جب دستک دی دروازے پر ..... محسوس ہوا ________ تم آۓ ہو انداز تمھارے جیسا تھا !! ہوا کے ہلکے جھونکے کی جب آہٹ پائی کھڑکی پر ..... محسوس ہوا ______ تم گزرے ہو احساس تمھارے جیسا تھا !! میں نے جو گرتی بوندوں کو جب روکنا چاہا ہاتھوں پر ..... اک سرد سا پھر احساس ہوا ______ وہ لمس تمھارے جیسا تھا !! تنہا میں چلا جب بارش میں تب اک جھونکے نے ساتھ دیا ..... میں سمجھا تم ہو ساتھ میرے ______ وہ ساتھ تمھارے جیسا تھا !! پھر رک سی گئی وہ بارش بھی باقی نہ رہی اک آہٹ بھی ..... میں سمجھا مجھے تم چھوڑ گۓ ______ انداز تمھارے جیسا تھا !!

ھڪ مند چري آھي

ھڪ مُند چري آھي، ٻي جا رات ٺري آھي، اھڙي ۾ اَچڻ تُنهنجو، ڀاڳن جي ڀري آھي. ڏس ڪهڙو ڏکڻ گُهليو، ٿيا ماڪ ڦُڙا موتي، ۽ ويسُ وڻن ڍڪيو، پن پنهنجا ڪري پوتي، وري آ تو ورائڻ لاءِ، واھو...

میں تمہارا

اگر یہ کہہ دو بغیر میرے نہیں گزارہ، تو میں تمہارا یا اس پہ مبنی کوئی تاثر کوئی اشارا، تو میں تمہارا غرور پرور، انا کا مالک، کچھ اس طرح کے ہیں نام میرے مگر قسم سے جو تم نے اک نام بھی پکارا ، تو میں تمہارا تم اپنی شرطوں پہ کھیل کھیلو، میں جیسے چاہے لگاؤں بازی اگر میں جیتا تو تم ہو میرے، اگر میں ہارا ، تو میں تمہارا تمہارا عاشق، تمہارا مخلص، تمہارا ساتھی، تمہارا اپنا رہا نہ ان میں سے کوئی دنیا میں جب تمہارا ، تو میں تمہارا تمہارا ہونے کے فیصلے کو میں اپنی قسمت پہ چھوڑتا ہوں اگر مقدر کا کوئی ٹوٹاکبھی ستارا تو میں تمہارا یہ کس پہ تعویز کر رہے ہو؟یہ کس کو پانے کے ہیں وظیفے؟ تمام چھوڑو بس ایک کر لو جو استخارہ ، تو میں تمہارا ................عامر امیرؔ...............