Skip to main content

Posts

قطعہ

دم بخود ہم تو ڈرے بیٹھے ہیں وہ حبابوں سے بھرے بیٹھے ہیں قتل ہونے پہ مرے بیٹھے ہیں سر ہتھیلی پہ دھرے بیٹھے ہیں شادؔ لکھنوی

کہاوتوں کی کہانیاں

حساب جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں​ مطلب یہ کہ تھوڑا علم خطرناک ہوتا ہے۔یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب کوئی شخص تھوڑا سا علم حاصل کر کے خود کو بہت قابل سمجھے اور جب اس علم پر عمل کرنے بیٹھے تو اپنی بے وقوفی کی وجہ سے نقصان اٹھائے، مگر نقصان کی وجہ اس کی سمجھ میں نہ آئے۔ اس کی کہانی یہ ہے کہ ایک صاحب زادے نے حساب کا علم سیکھنا شروع کیا۔ ایک روز استاد نے اوسط کا قاعدہ بتایا۔ انہوں نے اسے رٹ لیا۔ شام کو گھر گئے تو گھر والے دریا پار جانے کو تیار بیٹھے تھے۔ یہ حضرت بھی ساتھ ہو لیے۔ دریا کے کنارے پہنچنے پر گھر والوں نے کشتی تلاش کرنی شروع کی۔ یہ صاحب زادے اوسط کا قاعدہ پڑھ چکے تھے۔ جب کشتی والوں سے انہیں معلوم ہوا کہ دریا کناروں سے دو دو فٹ گہرا ہے اور درمیان میں آٹھ فٹ تو فورا دونوں کناروں کی گہرائی یعنی دو اور دو چار فٹ اور درمیان کی گہرائی آٹھ فٹ جمع کر کے کل بارہ فٹ کو تین پر تقسیم کر دیا۔ جواب آیا "اوسط گہرائی چار فٹ"۔ اس قاعدے سے تو دریا کی گہرائی بالکل کم تھی۔ اس لئے انہوں نے خوشی خوشی گھر والوں کو بتایا کہ کشتی کا کرایہ بچ جائے گا۔ بغیر کشتی کے بھی دریا پار کیا جا سکتا ہے۔ ...

قطعہ

بکھرا ہُوا ہوں شہرِ طلب میں اِدھر اُدھر اب تیری جستجو کو میّسر نہیں ہوں میں تُو جب طلب کرے گا مجھے بہر ِ التفات اُس دن خبر ملے گی کہ در پر نہیں ہوں میں

کوئی دیوانہ سمجھتا ہے

کوئی دیوانہ کہتا ہے  کوئی پاگل سمجھتا ہے مگر دھرتی کی بے چینی  کو بس بادل سمجھتا ہے میں تجھ سےدور کیسا ہوں تو مجھ سےدور کیسی ہے یہ میرا دل سمجھتا ہے یا تیرا دل سمجھتا ہے محبت ا...

غزل

کسی کو چاند اور کسی کو تاروں سے مسئلہ ہے، اُســــــے خزاں سے مجھے بہاروں سے مسئلہ ہے، دلِ شکستہ اُس ایک لڑکی کو کافی دن سے، تـــــرے علاوہ تمام یاروں ســـــے مسئلہ ہے، مجھ...