Skip to main content

Posts

نظم

وہ کہتی ہے سنوجاناں! مجھے محسوس ہوتا ہے نئے اس سال میں اپنے ستارے مل ہی جائیں گے میں کہتا ہوں! محبت کی طبیعت خوش گمانی ہے یہ پت جھڑ میں بھی پیڑوں کے ہرے پتے بناتی ہے وہ کہتی ہے بہت بوجھل ، بہت گہری اُداسی ہے نہ جانےجنوری کیوں درد میں لپٹا ہی ملتا ہے میں کہتا ہوں کہ جس دل میں محبت ڈال دے ڈیرے وہاں پر بس اُداسی، بے کلی اور درد اُگتا ہے وہ کہتی ہے! تمہیں تو یہ محبت شاد رکھتی تھی تو پھر آنکھوں میں، لہجے میں نمی کیوں آج لگتی ہے میں کہتا ہوں! ارے پگلی تمہیں تو علم ہی ہو گا بہت زیادہ خوشی میں بھی تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں

محبت تم سے نفرت ہے

چلو ہم پاس رکھ لیں گے  تیری باتیں تیری یادیں    مُحبّت تیرے صَدقے میں ملتی ہیں یہی سوغاتیں  ہنسیں گے خود سے مل کر ہم  گلے خود کو لگائیں گے  تجھے ہم یاد کرلیں گے  جب تجھے بھول جائیں گے     چلو منزل سے پہلے ہم  یہ رستہ موڑ جاتے ہیں  کہ جن کو دل میں رکھتے ہیں  وہی دل توڑ جاتے ہیں

چھالے کہاپڑے

اچھا تو پھر بتائیے کیسا رہا سفر ؟؟؟ ٹوٹی کہاں پہ جوتیاں ؟ چھالے کہاں پڑے ؟ کس موڑ پہ جناب کے ہمت نے دم دیا؟؟؟ صاحب کو اپنی جان کے لالے کہا پڑے ؟؟؟

تمہیں کیا لکھوں

ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﺩﻭﺳﺖ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﮨﻤﺪﻡ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﻏﻤﮕﺴﺎﺭ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﯾﺎ , ﭘﯿﺎﺭ ﻟﮑﮭﻮﮞ ﺩﻝ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ... ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮑﺠﺎ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﮎ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﻟﮑﮭﻮﮞ  ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﻟﮑﮭﻮﮞ.....!! 

اسے کہنا محبت ہے

ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻟﮑﮭﻮﮞ ؟ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺭﻭﭨﮫ ﮐﺮ،ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ،ﻧﻔﺮﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻭﭦ ﺳﮯ ﯾﺎ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺣﯿﻠﻮﮞ ﺑﮩﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﮭﺎﻧﮑﺘﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﺭﮨﻨﺎ ﻭﮦ ﻣﺎﻧﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮯ ﺑﺲ ﺍُﺳﮯ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﺍُﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ