وہ بهی اک شام فروری کی تهی
جب تری خواب نما آنکهوں میں
میری چاہت کی دهنک اتری تهی
جب یہ ادراک ہوا تها مجهکو
میرے جیون میں اجالوں کیلئے
تیرا ہونا بہت ضروری ہے
وہ بهی کیسا حسین عالم تها
مری چاہت کے ہر اک موسم میں
عکس تیرا دکهائی دیتا تها
میری خاموشیوں کے پہلو میں
جب بهی کِهلتی تهی گفتگو تری
دیر تک خوشبوؤں میں رہتی تھی
تو ہی محور تها زندگی کا مری
جزو هستی کا مانتی تهی تجهے
جز تیرے ،پاس کچھ نہیں تھا مرے
تیری چاہت میرا اثاثہ تهی
وہ بهی اک شام فروری کی تهی
جس میں بکهرے تهے رنگ چاہت کے
جسکے خوشبو سے بهیگتے پل میں
میرے شانے پہ اپنا سر رکھ کر
تو نے اقرار کیا تها مجھ سے
تیرے جیون میں اجالوں کیلئے
میرا ہونا بہت ضروری ہے
تو نے اس پل میں زندگی دی تهی
میں نے جی لی تهی زندگی اپنی
یہ بهی اک شام فروری کی ہے
جس میں بکهرے ہیں رنگ چاہت کے
جس میں یادوں کی دهند میں لپٹی
تیرے دن رات سوچتی ہوں میں
تیری ہر بات سوچتی ہوں میں
جز تری یاد،پاس کچھ بهی نہیں
کوئی امید، آس کچھ بھی نہیں
دل یہ بوجهل ہے شدت غم سے
آج رونا بہت ضروری ہے
میرے جیون میں اجالوں کیلئے
ترا ہونا بہت ضروری ہے...!!
غزل__________ استاد بخاري شوق تنهنجو شئي ئي ٻي بنجي ويو دل لڳي مان ، زندگي بنجي ويو چنڊ تارا ، گل سهي سودا نه ڏين حسن تنهنجو هڪ هٽي بنجي ويو چؤطرف چمڪار تنهنجي سونهن جا چاھه منهنجو چؤدڳي بنجي ويو سونهن سان جيڪو جڙيو سو جنتي جو ٿڙيو سو دوزخي بنجي ويو قرب ۾ ڪؤڙو ، ڪسارو هي سمو شاھه جي وائي مٺي بنجي ويو منهنجو سينو آ سدوري سنڌڙي تنهنجو سِرُ سنڌو ندي بنجي ويو عاشقن آڏو وڏو هيڏو پهاڙ ڌوڙ جي آ خر دڙي بنجي ويو جنهن کي تون”استاد“ووڙيندو وتين سو ته تنهنجي شاعري بنجي ویو ترجمہ شوق تمہارہ کوئی چیز ہی اور بن گیا دل لگی سے زندگی بن گیا چاند تارے پھول کوئی سودا نہیں دیتے حسن تمہارا ایک دوکاں بن گیا چاروں طرف نور ہے تمہارے حسن کا پیار میرا چاندنی بن گیا حسن سے جو جڑا وہ جنتی جو بہکا وہ دوزخی بن گیا محبت میں یہ جھوٹ بھی شاھ (عبدالطیف بھٹائی) کا گیت بن گیا میری چھاتی جیسے سندھ کی دھرتی سر تمہارا دریائے سندھ بن گیا عاشقوں کے آگے اتنا بڑا پہاڑ بھی مٹی کا اک ڈھیر بن گیا جس کی تجھے تلاش ہے اے "استاد" وہ تو تمہاری شاعری بن گیا۔
Comments
Post a Comment