Skip to main content

ہجر

‏ہجر لازم تھا مگر وصل کے لمحے، دُکھ ہے
ہم نے دو چار سہی ، اور گزارے ہوتے

تُم کو ٹکڑوں میں محبت کا صلہ کیا دیتے
تُم کبھی چھوڑ کے دنیا کو ہمارے ہوتے

 اُن کی قیمت میں تمہیں دونوں جہاں دے دیتا
تُم نے کنگن مِرے ہاتھوں میں اُتارے ہوتے

Comments