Skip to main content

لوگ کہتے ہیں گلستاں میں بہار آئی ہے

لوگ کہتے ہیں گلستاں میں بہار آئی ہے
پھول کہتا ہے مری جان پہ بن آئی ہے

تھام کر ہاتھ مرا، اس نے کسی کی نہ سنی
لوگ کہتے رہے سودائی، سودائی ہے

ان سے ملنے پہ بھی لوگوں نے بنائی باتیں
اور اب ان سے نہ ملنے پہ بھی رسوائی ہے

میں اکیلا تو نہیں میرے کئی ساتھی ہیں
آپکی یاد ہے، غم ہے، مری تنہائی ہے

شاخ سے توڑ کے جو چاہے اسے لے جائے
صرف بھنورا ہی نہیں، پھول بھی ہرجائی ہے

اپنے بارے میں بھی اب سوچ لیا کرتا ہوں
حاصلِ ترکِ مراسم یہی دانائی ہے

(پروفیسر منور علی ملک-میانوالی)

Comments