Skip to main content

قطعہ

‏دل نے کہا کہ اور ہو، میں نے کہا ! نہیں ، نہیں
اور اِسی میں کٹ گئے، عشق کے تیس سال بھی
لذتِ  زخمِ  تازہ  کو  کتنا  ترس  گیا  تھا  میں
اتنا ترس گیا تھا میں، رکھ دی تھی میں نے ڈھال بھی

عباس تابش

Comments